← حرفِ نیاز
مونس ہے نہ غم خوار ہے فریاد ہے فریاد
خونبار دلِ زار ہے فریاد ہے فریاد
پوشیدہ نگاہوں سے اگر قبلۂ جاں ہے
پھر زندگی دشوار ہے فریاد ہے فریاد
بے عشقِ نبیؐ کوئی جیا بھی تو جیا خاک
وہ خاک کا انبار ہے فریاد ہے فریاد
اِس جان وفا سے جو رہ و رسم نہیں ہے
ہر راستہ دیوار ہے فریاد ہے فریاد
وہ دل کہ محمدؐ کی محبت سے ہے خالی
بے یار و مددگار ہے فریاد ہے فریاد
چھائے ہوئے ہیں چاروں طرف خوف کے بادل
طوفان ہے مُنجدھار ہے فریاد ہے فریاد
خیرات ملے اِس کو بھی حسنینؓ کے صدقے
ساجدؔ بڑا نادار ہے فریاد ہے فریاد