حرفِ نیاز

نیاز مند ہوں دربارِ مصطفائی کا

نہیں ہے شوق ذرا بھی مجھے خدائی کا

کہاں یہ تاب ہے ذرّے میں مہر تک پہنچے

خیالِ خام ہے تجھ تک مری رسائی کا

نبیؐ کی بزم میں لازم طہارتِ دل ہے

ہے التزام یہاں روح کی صفائی کا

یہ کل کی بات نہیں واقعہ ازل کا ہے

طویل قصّہ مری اُن سے آشنائی کا

نبیؐ کی ذات ہے مظہرِ خدا کی قدرت کی

قصیدہ خواں ہوں خدایا! تری خدائی کا

خدا کا شکر ہے ساجدؔ نبیؐ کے گلشن میں

مجھے مقام ملا زمزمہ سرائی کا