← حرفِ نیاز
نویدِ رحمتِ پروردگار آئے گی
کبھی تو صبحِ شبِ انتظار آئے گی
کھلیں گے غنچے مرادوں کے پھول مہکیں گے
ہوا مدینے کی جب عطر بار آئے گی
رخِ نبیؐ کی اگر تیرے دل میں یاد نہیں
گھڑی جو آئے گی پھر سوگوار آئے گی
مریضِ دردِ محبت ہوں لے چلو بطحا
ہوا وہیں کی مجھے سازگار آئے گی
نگاہِ لطف دلِ زار کی تلاش میں ہے
ترے سکوں کو دلِ بے قرار آئے گی
خدا کرے ہمیں ساجدؔ نصیب خاکِ حجاز
مرے کی نیند وہاں میرے یار آئے گی