← حرفِ نیاز
علیؓ کا سینہ ہے جلوہ گہِ نبیؐ ساجدؔ
ہے مشکِ بار ہوا چار سُو مدینے کی
ہر ایک بزم میں ہے گفتگو مدینے کی
رواں ہے سیلِ تمنّا مری رگ و پے میں
بسی ہے دل میں مرے آرزو مدینے کی
ہے شہر شہر مدینے کے حُسن کا چرچا
ضیا ہے پھیلی ہوئی کُو بکُو مدینے کی
جمی ہوئی ہے مدینے پہ قدسیوں کی نظر
ہے جلوہ گاہِ نبیؐ آبرو مدینے کی
غزالِ دشت میں طائرِ چمن میں آوارہ
ہر اک گھڑی ہے انہیں جستجو مدینے کی
نجف سے بھی مجھے آتی ہے بو مدینے کی