جانِ جہاں

شکرِ صد شکر میں سلطاں کا مہماں ہوں!

جمعِ تسکینِ دلِ زار کا ساماں ہوں!⚠️

آگ گلزار ہوئی نورِ نبوّت کے لیے

آپ خلّاقِ جہاں اُس کا نگہباں ہوں!⚠️

اُن کے دامن سے جو لپٹا وہ سدا شاد رہا

جو بھی رُوگرد ہوا اُن سے، پریشاں ہوں!⚠️

شافعِ حشر شفاعت کے لیے آ پہنچے

شورِ فریاد سے پُر، محشر کا میداں ہوں!⚠️

مصحفِ حق کی تلاوت ہے نبی ﷺ کا دیدار

پیکرِ پاک وہ اللہ کی نمہاں⚠️ ہوں!

حرمِ حق میں نشست اُس کی مفتِ⚠️ قُرب میں ہے

جس کو حاصل شہِ ﷺ لولاک کا عرفاں ہوں!⚠️

اُس کی تعظیم دل و جاں سے کریں اے ساجدؔ!

جو خوشِ خوانِ شاہِ عالم ﷺ کا ثناخواں ہوں!⚠️