جانِ جہاں

مرا وظیفہ درود و سلام ہو جائے

اسی میں زندگی مری تمام ہو جائے

خدا کا لطف و کرم مجھ پہ عام ہو جائے

مرا بھی اُن کے غلاموں میں نام ہو جائے

شرفِ نصیب ہو ہر سال مجھ کو عمرے کا

مرے سفر کا کوئی انتظام ہو جائے

حرمِ مدینے کی اے کاش ہو مقدّر میں

مرے نصیب میں بلھی⚠️ کی شام ہو جائے

خدا کرے کہ بہم غیب سے ہوں نوں⚠️ اسباب

نبی ﷺ کے شہر میں میرا قیام ہو جائے

یہ جاں ہو مری سرشار اُن کی رحمت سے

کرم سے اُن کے یہ دل شاد کام ہو جائے

پسندِ خاطرِ مستانِ سخن ہو ساجدؔ کا

قبولِ اہلِ نظر یہ کلام ہو جائے