← جانِ جہاں
آمد پہ اُن کی روشنی کا باز در ہوا
عالم کی نعمتوں سے ہر اک بہرہ ور ہوا
واصل جو آپ ﷺ سے ہوا وہ بخت ور ہوا
اُن سے جو دُور دُور رہا، دربدر ہوا
جو دشت تھا وہ کیں⚠️ قدم سے بہشت ہے
ظاہر ہر ایک شاخ سے شیریں ثمر ہوا
اُن کا فقیر ہے پہ سالارِ باوقار
اُن کا غلام امیرِ جہاں، تاجور⚠️ ہوا
کو چے میں مصطفیٰ ﷺ کے ستاروں کا ہے ہجوم
پہنچا جو اُن کی بزم میں رنگِ قمر ہوا
آلِ عبا کی شان کا ہمسر کوئی نہیں
یہ خاندانِ قدس نشاں، نامور ہوا
ساجدؔ غم و الم کی ہوئیں جب بھی یورشیں
نامِ امیرِ اہلِ⚠️ ﷺ مری سپر ہوا