← جانِ جہاں
جس نے بھی گوہرِ عرفانِ حقیقت پایا
یہ حقیقت، ہے شہِ دیں ﷺ کی بدولت پایا
ہم بھٹکے عالمِ ایجاد میں ہر سُو، آخر
در پہ سرکار ﷺ کے گنجینۂ راحت پایا
جس سفینے کا ہے رُخ جانب بلھی⚠️ ہم نے
موج و گرداب میں بھی اُس کو سلامت پایا
جس کی صورت سے عیاں ذاتِ خدا ہے، اللہ
ہر طرف ہم نے وہی جلوۂ رحمت پایا
مرحبا، وہ ہوا مقبولِ زمانے بھر میں
جس نے فیضانِ غلامی نبوّت پایا
آلِ سلطین سے ہے دل کی ارادت رُخ⚠️
تھک گئے ہم نے جہاں نورِ امامت پایا
خوفِ عصیاں کا نہیں ہم کو ذرا بھی ساجدؔ
جب سے سرکار ﷺ کا پیغامِ شفاعت پایا