جانِ جہاں

عطا ہوں گے ہمیں انعام کیا کیا فضلِ داور سے

چنیں گے روزِ محشر جام ہم دستِ پیمبر ﷺ سے

خدایا! ہم درودوں کی نبی ﷺ کو ڈالیاں بھیجیں

الٰہی! ہم پہ ابرِ لطف تیرا رات دن برسے

سرور آیا عجب دل کو نبی ﷺ کے روپ جب پنچے⚠️

ہوئی شاداں مری جاں گنبدِ خضریٰ کے منظر سے

نبوّت کے ہیں فیوض اور برکتیں شانِ امامت کی

ولایت کی ملیں نعمتیں سب آپ ﷺ کے گھر سے

عطا خلعتِ قیادت کی ہوئی اُن کی غلامی میں

ملا تاجِ سیادت سیّدِ لولاک ﷺ کے در سے

نبی ﷺ کے ہاتھ سے تقسیم ہوتے ہیں منِ و سلویٰ

یہ مفلس اور غنی کھاتے ہیں سب آقا ﷺ کے نظر⚠️ سے

سکونِ دل کی دولت ذکرِ حق میں ہے نہاں ساجدؔ

اگر شک ہو حقیقت پوچھیے، کیا گر⚠️ سے