← جانِ جہاں
آرزو جس کی تھی وہ مکاں آ گیا
سامنے عرشِ عالی نشاں آ گیا
خالقِ گل جو ہر آنکھ سے ہے نہاں
دیدۂ مصطفیٰ ﷺ میں عیاں آ گیا
جو وسیلہ خدا تک رسائی کا ہے
خلق و حق کے وہی درمیاں آ گیا
آپ ﷺ کا راستا ہے رو⚠️ محتشر⚠️
جو ہمارے لیے فرقباں⚠️ آ گیا
جس کی خاطر جہاں سارا بے چین تھا
مونسِ قدسی و اِنس و جاں آ گیا
عقدۂ اسرار کے دل پہ کھلنے لگے
میری سرکار کا آستاں آ گیا
بھٹکے⚠️ تھے ابد ساجدؔ غم دہر کے
لب پہ جب ذکرِ شاہِ شہباں⚠️ آ گیا