جانِ جہاں

جائیں گے ہم حبیبِ خدا کے دیار میں

لیں گے سکون روضہ کو ہم بھی کنار میں

اکثر زباں پہ رہتا ہے نامِ رسولِ پاک ﷺ

کہتے ہیں رات دن خوشی سے اس حصار میں

ہم لوٹتے ہیں پھر یہیں آنے کے عزم سے

گزرے تمام عمر اسی رنگ⚠️ و کار⚠️ میں

ہم کو نگاہِ لطف سے دیکھیں گے وہ ضرور

ذر پر کھڑے ہیں اُن کے ہم اس انتظار میں

مفلس کو بادشاہ، خذف کو گوہر کریں

اذنِ خدا سے اُن کے ہے یہ اختیار میں

شاہ و گدا کا ورد زباں ہے درودِ پاک

محفل بھی ہے نور کی صحنِ حزار⚠️ میں

بیٹھے ہیں سانس روک کر عطّار و بولہبی⚠️

ساجدؔ گناہگار یہاں کس شمار میں