جانِ جہاں

تصوّر میں جمائے ہم نظر آقا ﷺ کے ابرو پر

پھریں پتھلوں⚠️ کے شہر میں، کبھی بیٹھیں لب جو⚠️ پر

جلائے آگ قالب کو مرے، ممکن نہیں ہرگز

اگر لگ جائے میرا ہاتھ اُن کے در کے بازو پر

محبّت کے کسی بیمار سے پوچھیں یہ کیفیت

یہ مستانے فدا ہوتے ہیں کیوں پتھلوں⚠️ کی خوشبو پر

درودِ پاک کی عظمت کھلے گی اہلِ محشر پر

معاصی جب ہمارے تولے جائیں ترازو پر

مجھے جب یاد آتا ہے مدینے میں قیامِ اپنا

اکیلے میں بہت روتا ہوں میں سر رکھ کے زانو پر

یہ جلوے روزِ روشن کے ہیں قرباں اُن کی صورت پر

فدا ہیں عشقِ پنہاں اور سنبل اُن کے گیسو پر

خدا توفیق دے نعتیں سدا لکھتا رہوں ساجدؔ

مرا ایمان و جسم و جان قرباں شاہ ﷺ کے اُنو⚠️ پر