محرابِ جاں

ذی وقار کمال

نہ کوئی بعد نہ دُوری ہے ذی وقار کمال!

ولی تو حق کا حضوری ہے ذی وقار کمال!

جو پاس بیٹھا ترے روشنی میں ڈوب گیا

کہ انجمن تیری نوری ہے ذی وقار کمال!