← محرابِ جاں
حُسن کا ذاتِ احد کے دل میں جلوہ چاہیے
رات دن چہرہ خیالوں میں نبیؐ کا چاہیے
سبز گنبد کی بہار روح افزا چاہیے
میری آنکھوں کو سدا منظر یہ زیبا چاہیے
بند دروازہ دل غمگیں کا گھلنا⚠️ چاہیے
رحمتِ یزداں کا اک ہلکا سا جھونکا چاہیے
جل رہا ہوں دھوپ میں کلفت کی سایا چاہیے
اس تپش کا کچھ مداوا اے مسیحا! چاہیے
ابرِ رحمت کا ادھر بھی ایک چھینٹا چاہیے
میرے آقا! تشنہ لب کو جامِ صہبا⚠️ چاہیے
پیشِ جاں کے سامنے باغِ تمنّا چاہیے
ثبت دل پر شاہ کا نقشِ کفِ پا چاہیے
یا نبیؐ! ساجدؔ کو اب حلمِ⚠️ معافی⚠️ چاہیے
اب کشادِ عقدۂ اہم و مہم⚠️ سننے چاہیے