← محرابِ جاں
سنگریزے ہیں بنے لعل و بدخشاں کیا کیا
آپ کی راہ کے ہیں ذرّے فروزاں کیا کیا
شاہِ مرسل کی ادا کی ہے کہاں کوئی نظیر
بے شمار آئے یہاں سرو خراماں کیا کیا
اُن کی رحمت کا نہیں ایک بھی چھینٹے کا جواب
خاک پر برسا ہے گو ابرِ بہاراں کیا کیا
باغ افسردہ کھلائے ہیں نبیؐ نے دل کے
بھر دیے دل کی تمنّاؤں کے داماں کیا کیا
مجلۂ⚠️ جاں میں خیال اُن کا ہے جلوت⚠️ آرا
مل گیا لطف و عنایات کا ساماں کیا کیا
اُتر آیا ہے سکوں دل کے نہاں خانے میں
مل گئے شکرِ خدا چاکِ گریباں کیا کیا
نامِ جب شاہ کا آیا مرے لب پر ساجدؔ
دیکھتے دیکھتے سب تھم گئے طوفاں کیا کیا