محرابِ جاں

ہم پر عطا دمہر⚠️ سب اُس تاجور کی ہے

تاثیرِ جان و دل میں یہ لطفِ نظر کی ہے

دل میں خیالِ مصطفیٰ شام و سحر ہے اب

ساری یہ دل میں سرخوشی عزمِ سفر کی ہے

برسوں سے دل میں شوق ہے دیدارِ شاہ کا

سر میں مرے اک آرزو اُس تنگِ⚠️ در کی ہے

ذکر اُن کا اک گھڑی کا ماجرا نہیں

آنکھوں بھر کی بات یہ اُس نامور کی ہے

سرِ قول اعمل میں ہے نامِ مصطفیٰ

ساری دعا میں بات دعائے اثر کی ہے

پرتو ہے اُن کی صورتِ جلوہ طراز کا

رنگت جو آتی لپٹیں⚠️ رُوئے سحر کی ہے

ساجدؔ یہ لطفِ خاص ہے ربِّ جہاں کا

رحمت جو شرق و غرب میں پیغمبر کی ہے