← محرابِ جاں
اُن کا عالم میں کہاں ثانی ہے
وہ بشر پیکرِ نورانی ہے
مظہرِ ذات سراپا اُن کا
اُن کی کونین میں سلطانی ہے
خاص و عام پہ نوازش اُن کی
اُن کی رحمت کی فراوانی ہے
دل کی آبادی ہے اُن کی یادیں
اور اُنہیں بھولنا ویرانی ہے
جاوداں فیض سے اُن کے مجھ کو
کوئی غم ہے نہ پریشانی ہے
دستِ رحمت نے ہیں عقدے کھولے
اب تو آسانی ہی آسانی ہے
تخت اور تاج سے بڑھ کر ساجدؔ
اُس درِ پاک کی دربانی ہے