نور و سرور

شبِ رنج و غم کی سحر ہو رہی ہے

یہ اُن کے کرم کی نظر ہو رہی ہے

نوازش ہے اُن کی مرے حال دل پر

بڑے ہی مزے میں بسر ہو رہی ہے

یہ کون آ گیا ہے خیالوں میں میرے

کہ خلوت بھی اب نغمہ گر ہو رہی ہے

بلا امتیاز اُن کی باراں رحمت

ہر ایک خویش و بیگانہ پر ہو رہی ہے

چھِڑوا تذکرہ اُن کی مہر و وفا کا

ہر اِک آنکھ محفل میں تر ہو رہی ہے

مری عرضِ بے صوت وہ سُن رہے ہیں

مرے دل کی اُن کو خبر ہو رہی ہے

فقط میں نہیں موردِ لطفِ ساجد

سب اہلِ جہاں پر نظر ہو رہی ہے