← نور و سرور
جہاں میں آئے وہ آبادیٔ جہاں کے لیے
پیام لائے محبت کا انس و جاں کے لیے
یہ بزمِ شمس و قمر، محفلِ گُل و خوشبو
یہ رونقیں ہیں سبھی شاہِ دو جہاں کے لیے
ہوں میرے شام وسحر اُن کے نام سے منسوب
اِک اور عمر ملے اُن کے آستاں کے لیے
حضورؐ آئے دکھانے تجلّیاتِ جمال
سُراغِ عین ہیں وہ ذاتِ بے نشاں کے لیے
اُنہی کی یاد، اُنہی کا تصور اور خیال
یہی ہے نسخۂ علاج دلِ تپاں کے لیے
متاعِ شوقِ دل افزا وَ جنسِ صدق و صفا
ہے زادِ راہِ مدینے کے کارواں کے لیے
سببِ یہ چشمِ زدن میں بہم ہُوا ساجد
تھا دل میں شوق بہت اپنے مہرباں کے لیے