← نور و سرور
قلب میرا ہی کہاں آپؐ کا شیدائی ہے
عالمِ ارض و سما سارا تمنائی ہے
اُن کی یادوں کی حسیں بزم میں دل والوں کو
رنج و حرماں نہ کوئی کلفتِ تنہائی ہے
اُن کے در پہ ہیں گداعامی و عارف سارے
کائنات آپؐ کے قدموں میں سمٹ آئی ہے
وہ مسیحا ہیں مسیحاؤں کے، اللہ اللہ
اُن کے ہاتھوں سے زمانے نے شفاپائی ہے
آپؐ پر حق نے کئے فاش معارف کیا
سارے عالم پہ محیط آپؐ کی دانائی ہے
روشنیِ مہر و قمر کی ہو کہ پھولوں کا جمال
آپؐ کے حُسن کا سب جلوۂ رعنائی ہے
بسکہ دشوار مرا آنا یہاں تھا ساجد
اِک کریمانہ نظرِ کھینچ لے آئی ہے