← نور و سرور
موج ساحل بن گئی اور دردِ درماں ہو گیا
اُن کے فیضانِ نظر سے کام آساں ہو گیا
وہ انہیں قلب و جاں، ہر اُمّتی پر مہرباں
جِس نے مانگا دل کا پُورا اِس کے ارماں ہو گیا
اِن کی تاثیرِ نظر سے سنگ گوہر ہو گئے
غُرفۂ تاریک بھی روشن شبستاں ہو گیا
جِس کو چاہا اِک گھڑی میں وہ ہُوا صاحب نظر
جِس کو دیکھا اِک نظر وہ مستِ عرفاں ہو گیا
ہو گئی آباد بزمِ دل بفیضِ مصطفیٰؐ
تار و پُودِ وہم سب دُودِ پریشاں ہو گیا
ہر دلِ حسرت زدہ کو مل گیا گنجِ مراد
سوختہ جانوں کی بیماری کا درماں ہو گیا
شکر ساجد اِس کرم کا میں کروں کیسے ادا
مجھ سا نالائق بھی اُن کا زمزمہ خواں ہو گیا