نور و سرور

پیشِ نظر جہاں کا ہو سلطان رات دن

اُن کا کرم ہو ہر گھڑی ہر آن رات دن

اُس بارگاہِ پاک میں لُٹتا ہے عام نُور

بٹتا ہے عامِ ذاتِ کا عرفاں رات دن

اللہ کا حبیبؐ ہے مولائے کائنات

آفاق پر ہے آپؐ کا احساں رات دن

قدسی درِ جنابِ رسالت آب پر

بن کر کھڑے ہیں با ادب دربان رات دن

یا ربِّ! نبیؐ کا شوق فراواں نصیب ہو

روشن رہے یہ دل مرا یہ جاں رات دن

خدمت میں اُن کی رہوں مشغول ہر گھڑی

آتے رہیں رسولؐ کے مہمان رات دن

ساجد نبیؐ کی یاد میں محفل جمی رہے

ہوں محوِ نعت اُن کے ثناخواں رات دن