نور و سرور

حُسن کے نُور کا ڈیرا ہوتا

میرے دل میں بھی سویرا ہوتا

ذاتِ اُن کی ہے چراغِ عالم

وہ نہ آتے تو اندھیرا ہوتا

یہ بیاباں بھی خیاباں ہوتے

اُن کا اِس سمت پھیرا ہوتا

آج اِس راہ سے وہ گزریں گے

گھر اِسی راہ میں میرا ہوتا

کتنی اچھی میری حالت ہوتی

کاش بطحا میں بسیرا ہوتا

غم ہے آج اُن کا زیادہ اے کاش

ابر کچھ اور گھنیرا ہوتا

نعت کا فیض ہے ساجد ورنہ

تجھ کو آلام نے گھیرا ہوتا