نور و سرور

بارگاہِ جمال کی باتیں

جلوۂ بے مثال کی باتیں

جو ہوئیں عرش پر شبِ معراج

کون جانے وصال کی باتیں

کوئی عالی نظر ہی سمجھائے

اُن کے اوج و کمال کی باتیں

سر بسر جذب و شوق سوز و گداز

عشق و مستی بلالؑ کی باتیں

حسب "خیر الامور اوسطہا"

خُوب ہیں اعتدال کی باتیں

ہم پہ لازم ہے با ادب ہو کر

ہم کریں اُن کی آل کی باتیں

اُن کے در پر سناؤں گا ساجد

اِس دلِ پُرملال کی باتیں