← نور و سرور
جو محبت کے یہ جی اپنا بہلتا ہی نہیں
گر نہ ہو زادِ سفر قافلہ چلتا ہی نہیں
پھر اُترتا نہیں چڑھ جائے اگر رنگِ اُن کا
رہروِ شوق: روشِ اپنی بدلتا ہی نہیں
ہر گھڑی زمزمہ خواہ اُن کے انوار کی رُت
اُن کے الطاف کا سُورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں
قید ہوتے ہی ملا عطا ہوتا ہے شاہی کا لباس
اُن کا قیدی: کبھی زنداں سے نکلتا ہی نہیں
اُن کی رحمت ہو اگر ساتھ تو کچھ خوف نہیں
ایسے حالات میں پھر پاؤں پھسلتا ہی نہیں
جو گِرے اُس کو وہ دیتے ہیں سنبھالا لیکن
اُن کی نظروں سے جو گِر جائے، سنبھلتا ہی نہیں
تپشِ شوق ہے ساجد مرے نغمات کی جاں
گرمیِ جاں کے سوا نغمۂ ابلا ہی نہیں ⚠️ [ابلا: شاید "ابلق" یا "ابتدا"]