نور و سرور

کاش ایسی بھی اِک سحر آئے

میرا محبوبؐ جاں نظر آئے

کوئی اُن سا حسیں نہیں دیکھا

لاکھ گُل چہرہ سیمبر آئے

مجھ وجاجاں یُوں ہُوا خیالِ اُن کا

یادِ اب اُن کی بیشتر آئے

ہر طرف رنگ و نُور و نعمت ہے

شاہِ عالم کے بام و در آئے

روشنی ہے اُنہی کی ہر جانب

دل کو ہر سُو وہی نظر آئے

ہم کو دنیا سے کچھ نہیں لینا

ہم یُونہی گھومنے اِدھر آئے

بام و در سے بھی پھُوٹتی ہے بہار

کُون ساجد کے آج گھر آئے