نور و سرور

مدحت سرا ہُوا جو میں اپنی ترنگ میں

چمکا خوشی کا نُور مرے انگ انگ میں

کچھ اور ہی فضا ہے دیارِ حبیبؐ کی

ڈُوبی ہر ایک شے ہے یہاں نُور و رنگ میں

باطل کا بند اب کوئی باقی نہیں رہا

سیلاب ہے رواں مرے دل کی امنگ میں

اصحاب کچھ تو حبِّ نبیؐ میں ہوئے شہید

کچھ کام آئے صدق میں باطل سے جنگ میں

یادِ نبیؐ کی مستیوں کو ظرف چاہیے

کتنا کچھ آخر آئے گا دامانِ سنگ میں

اعجاز ہے یہ شاہِ رسلؐ کی نگاہ کا

آئینے کی جو روشنی آئی ہے سنگ میں

ساجد عجیب چیز ہے ذوقِ سماع بھی

کرتی ہے رقصِ روح مری بزمِ چنگ میں