← نور و سرور
محمدؐ مصطفیٰؐ شاہِ رسل نُورِ خدا آئے
بہر سُو جلوے برساتے ہوئے شمسِ لقاؐ آئے
بتائیدِ خدا ہیں وہ بے سہاروں کا سہارا
جہاں والوں کی جانب رہبری کو مصطفیٰؐ آئے
اَحد کے نُور سے تاریکیِ دل دور کرنے کو
سنانے مُرشدہ جنت کی امامِ انبیاءؐ آئے
دلِ بے تاب کو ٹھنڈک ملی، آخر سکوں آیا
مقدر دل کا جاگ اُٹھا کہ دل کے آشنا آئے
لُٹائے چہرۂ زیبا نے جلوے نُورِ مطلق کے
زیارتِ جلوۂ حق کی کرانے حق نُما آئے
بڑی تھیں کھیتیاں انسانیت کی خشک اور ویراں
انہیں سرسبز کرنے کے لیے ابرِ عطا آئے
بڑی مدت سے بیٹھا ہے کشکولِ دل خالی
نگاہِ لطف ساجد پر بنامِ کبریا آئے