نور و سرور

اک نشہ سا مدام رہتا ہے

اُن سے دل ہمکلام رہتا ہے

لِلّٰہِ الحمد، میری خلوت میں

تذکرہ اُن کا عام رہتا ہے

ہے ابھی میرے دل میں شوقِ درود

اے خدا! میرا کام رہتا ہے

رشکِ یاقوت ہیں وہ لب جن پر

میرے آقاؐ کا نام رہتا ہے

تذکرہ اُن کے گیسو و رُخ کا

صبح رہتا ہے شام رہتا ہے

ناکمل مرا سفر ہے ابھی

اُن کے در کا سلام رہتا ہے

آج کل لمحہ لمحہ ساجد کو

انتظار پیام رہتا ہے