نور و سرور

نگاہِ کرمِ بادشاہ یگانہ

پناہِ جہاں آپؐ کا آستانہ

مجھے بھی ہے درکار دردِ محبت

مجھے بھی عطا ہو غمِ جاوِدانہ

تصورِ نبیؐ کا حیاتِ دل و جاں ہے

ہے یادِ نبیؐ مستیوں کا خزانہ

مقدر ہو دیوارِ بطحا کا سایہ

میسّرِ مدینے کا ہو آب و دانہ

مجھے چاہیے آپؐ کی چشمِ رحمت

مجھے چاہیے آپؐ کا آستانہ

میرا دل منور ہو نُورِ نبیؐ سے

لے اُن کے در سے نظرِ عارفانہ

ہے سلطانِ رحمت کی خدمت میں ساجد

گزارش دل و جاں کی یہ عاجزانہ