← نور و سرور
اے شاہ! دلِ زار پہ رحمت کی نظر ہو
مجھ بے کس و ناداد پہ رحمت کی نظر ہو
سرکار! گناہوں سے بُرا حال ہے میرا
سرکار! گنہگار پہ رحمت کی نظر ہو
کٹتے ہیں شب و روز مرے دردِ الم میں
اِس ہجر کے بیمار پہ رحمت کی نظر ہو
لُطف مری سمت بھی ہو جائے توجہ
اِس دیدۂ خُوں بار پہ رحمت کی نظر ہو
روشن ہو تو تیرے رُخ کی تجلّی سے مِرا بام
میرے در و دیوار پہ رحمت کی نظر ہو
منزل ہے بہت دُور، پیادہ میں رواں ہوں
واماندۂ رفتار پہ رحمت کی نظر ہو
شائستہ و شایستہ ہو زباں نعت کی ساجد
میرے لب گفتار پہ رحمت کی نظر ہو