نور و سرور

آب و ہوائے شہرِ نبیؐ چاہیے مجھے

مستیِ نُرورِ کیفِ خوشی چاہیے مجھے

دل پر مرے حقیقتِ اشیا ہو منکشف

دن رات شوقِ حق نگری چاہیے مجھے

رعنائے بہارِ چمن خوب ہے مگر

نظارۂ جمالِ نبیؐ چاہیے مجھے

اِک آرزو یہی ہے درِ مصطفیٰؐ ملے

کچھ تاج چاہیے نہ شہی چاہیے مجھے

ٹُوٹے دلوں کو جوڑوں یہی شوق ہے مرا

اُدھڑی قبا کی بنیہ گری چاہیے مجھے

ہر لحظ ذوق و شوق، حصولِ نیا

جلوہ نیا، نظر بھی نئی چاہیے مجھے

یارب! حضورؐ دائمی مجھ کو نصیب ہو

بس تُو ہی تُو ہو دل میں یہی چاہیے مجھے