نور و سرور

سیدِ عالم کا لطفِ جاودانی چاہیے

اُن کی شفقت چاہیے اور مہربانی چاہیے

سیم و زر کیا جان و ایماں آپؐ پر قرباں ہیں

اُن کے قدموں میں رہوں یہ شادمانی چاہیے

خلعت و پوشاکِ زرّیں کی نہیں ہے آرزو

خاص ہے جو اُن کے اپنوں کی نشانی چاہیے

دل میں سیلِ شوق ہو لب پر نبیؐ کا نام ہو

اُن کی خاطر وقف ہو وہ زندگانی چاہیے

آپؐ کے در کے فقیروں میں مرا بھی نام ہو

بادشاہی چاہیے نہ حکمرانی چاہیے

شوقِ دل کی داستاں لب سے بیاں ہوتی نہیں

اشکِ خونیں کی زباں میں ترجمانی چاہیے

رات دن لکھتا رہوں ساجد ثنائے مصطفیٰؐ

طبعِ موزوں کو مری ایسی روانی چاہیے