نور و سرور

جب نبوّت کی ظاہر ہوئی روشنی

خاکداں ہو گیا روشنی روشنی

ذکر جب چھِڑ گیا شاہِ کونین کا

انجمن میں فزوں ہو گئی روشنی

قُربِ حق یُوں کہ تابِ سخن ہی نہیں

ڈھل گئی جسمِ میں ذاتِ کی روشنی

اے زمانے کی گردش! ذرا ڈھونڈ لا

ماہِ بطحا کی وہ چاندنی روشنی

جِس پہ اِک بار چشمِ نوازش ہوئی

اِس پہ دائم برستی رہی روشنی

خلوتِ قبر میں جلوتِ حشر میں

لوگ دیکھیں گے وہ سرمدی روشنی

ہے مقدر کا سکندر کا اُس پر فدا

جِس کو ساجد ملی آپؐ کی روشنی