نور و سرور

اُن کی رحمت سے سبھی رنگ نکھر جاتے ہیں

بخت ہوں بگڑے ہوئے لاکھ سنور جاتے ہیں

غم کے سیلاب ہوں کتنے ہی قیامت بکنار

پار ہم اُن کے اشارے سے اتر جاتے ہیں

مہرباں جن پہ ہیں سرکار وہ عاقبت سے

آگ کے گہرے سمندر سے گزر جاتے ہیں

آپؐ کی بزم پُر انوار سے ہر شام و سحر

روشنی مانگتے خورشید و قمر جاتے ہیں

اُن کے مشتاق یہ در چھوڑ کے جاتے ہیں کہاں

پھر یہیں لوٹ کے آنے کو وہ گھر جاتے ہیں

خوش نصیب ایسے بھی ہیں جن کو حضوری ہے مدام

انجمن ساتھ ہے اِن کے وہ جِدھر جاتے ہیں

بھرم کے آتے ہیں وہ دامانِ تمنا ساجد

آپؐ کی سمت جو بادیدۂ تر جاتے ہیں