نور و سرور

سامانِ سکونِ قلب آپؐ ہی کا ہے

بعد از خدا بزرگ مقامِ آپؐ ہی کا ہے

بھرتا جہاں ہے دامنِ دل آپؐ کا ہے در

بُجھتی ہے جِس سے تشنگی، جامِ آپؐ ہی کا ہے

حرفِ غلط تھا، مٹ گئی باطل کی داستاں

لوحِ جہاں پہ نقشِ دوامِ آپؐ ہی کا ہے

ہر اِک سوال کا وہ کامل جواب ہے

ہر جہت پہ محیطِ نظامِ آپؐ ہی کا ہے

تخلیق کی کتاب کا دیباچہ آپؐ ہیں

اور انبیاءؐ میں آخری نامِ آپؐ ہی کا ہے

پل بھر میں اِس زمیں سے گیا لامکاں میں کون

اللہ! یہ کمالِ خرامِ آپؐ ہی کا ہے

ساجد کو خاص اِذنِ حضوری ہو اے کریم!

بیٹھا رہے گا درؐ پہ غلامِ آپؐ ہی کا ہے