نور و سرور

آئے ہیں ہم ہجومِ تمنا لیے ہوئے

دستِ طلب میں وسعتِ صحرا لیے ہوئے

پہلی نگاہ میں ہی تماشا وہ بن گئے

آئے جو دل میں شوقِ تماشا لیے ہوئے

ہر چیز ڈُھل کے روشنی میں چاند ہو گئی

جب آئے مصطفیٰؐ رُخِ زیبا لیے ہوئے

بطحا کی سمت قافلے دن رات ہیں رواں

رفتار میں رواقی دریا لیے ہوئے

اُن کے غلام ذات میں اپنی انجمن ہیں

بیٹھے ہیں دل میں نُورِ خدا کے لیے ہوئے

حقِ کا رسولؐ اکمل مظہر ہے ذاتِ کا

اِک دلِ نشیں حسیں سراپا لیے ہوئے

ساجد بشر اسیرِ الم تھا کہ آنجنابؐ

بہرِ نجات آئے سویرا لیے ہوئے