← نور و سرور
سیدِ نامور کی بات کریں
اُن کے فیضِ نظر کی بات کریں
جن کے ایما سے شمس لوٹ آیا
اُن کے شوقِ القمر کی بات کریں
آئنہ بن گئے جو پتھر تھے
اُس نظر کے اثر کی بات کریں
تاجور جِس کے در پہ منگتا ہیں
اُس شہِ بحر و بر کی بات کریں
جوڑتا ہے جو دل کے رشتوں کو
اُس حسیں شیشہ گر کی بات کریں
جِس کے سائے میں ہے جہاں سارا
نُور کے اُس شجر کی بات کریں
کھا گئی دل کو تیرگی ساجد
روشنی کے گُہر کی بات کریں