نور و سرور

یُونہی کب یہ سُرور رہتا ہے

دل میں کوئی ضرور رہتا ہے

دور رہ کر قریب ہے کوئی

کوئی قربت میں دور رہتا ہے

یہ ہے فیضانِ چشمِ رحمت کا

خلوتوں میں حضور رہتا ہے

میرے دل میں شنا کا شوق ابھی

میرے ربِّ غفور! رہتا ہے

اُن کی پہچان ہو فزوں جتنی

دل میں اتنا سرور رہتا ہے

وہ نگاہوں میں ہیں سمائے ہوئے

رُوبرو عکسِ طور رہتا ہے

جِس کے لب پر درود ہے ساجد

شاملِ بزمِ نور رہتا ہے