نور و سرور

نبیؐ کے نام سے سرمایۂ قرار ملا

پیامِ لطف ملا، مُشردۂ بہار ملا

تھی ایک گُل کی تمنا، عطا ہُوا گلشن

حد و حساب سے مانگا تھا، بے شمار ملا

نبیؐ کے نُور سے روشن ہُوا حریمِ جمال

دل و نظر کو اُسی نُور سے خُمار ملا

نبیؐ کے شہر کے شام و سحر ہیں جاں پرور

کبھیں بھی اور نہ موسم وہ خوشگوار ملا

ہر ایک راستہ منزل ہے کامرانی کی

نبیؐ کے شہر کا ہر جادہ جلوہ زار ملا

بے لطفِ حق ہے میسّر ہوائے خُلد ہمیں

ہمیں قیام کو یہ شہرِ شہریار ملا

سُنی ہے نعتِ نبیؐ آج ہم نے ساجد سے

ہمارے قلبِ حزیں کو بہت قرار ملا