← رباعیاتِ ساجد
شر
ایمان ہُوا دین کی مُحکم بنیاد
ایمان کہاں، گر نہ کرے دِل ہی صاد
بالجبر ہُوا کوئی مسلمان کہاں
الزام سراسر ہے یہ شر کی ایجاد
ایمان ہُوا دین کی مُحکم بنیاد
ایمان کہاں، گر نہ کرے دِل ہی صاد
بالجبر ہُوا کوئی مسلمان کہاں
الزام سراسر ہے یہ شر کی ایجاد