← رباعیاتِ ساجد
سُرود
زر دینے سے دل پہلے تو گھبراتا ہے
تکرار سے دل کیف سے بھر جاتا ہے
تقسیم میں دولت کی، سُرود آئے جب
پھر جاں بھی لٹانے میں مزا آتا ہے
زر دینے سے دل پہلے تو گھبراتا ہے
تکرار سے دل کیف سے بھر جاتا ہے
تقسیم میں دولت کی، سُرود آئے جب
پھر جاں بھی لٹانے میں مزا آتا ہے