رباعیاتِ ساؔجِد

سُرود

1

زر دینے سے دِل پہلے تو گھبراتا ہے

تکرار سے دِل کیف سے بھر جاتا ہے

تقسیم میں دولت کی، سُرود آئے جب

پھر جاں بھی لٹانے میں مزا آتا ہے