رباعیاتِ ساجد

ریا کاری

جب وقت شمر آیا تو نکلی اک آہ

اس شعلۂ آتش سے ہُوا باغ تباہ

پس یونہی غضب ڈھایا ریاکاری نے

دن حشر کے اعمال تھے سب ڈھیر سیاہ