رباعیاتِ ساجد

بے حِس

اصنام کہاں بخت جگا سکتے ہیں

ماتھے سے کہاں شخص مٹا سکتے ہیں

جامد ہیں جو خود، کس طرح انسانوں کو

خالِق کا مقرب وہ بنا سکتے ہیں