رباعیاتِ ساجد

یارب! کوئی لغزش ہو کہ ہم سے ہو خطا

تُو ہم کو نہ کر زیر گَراں بار بلا

جس بوجھ تلے پہلے خطا کار دبے

ہم پر بھی کہیں بوجھ نہ آئے وہ بڑا