رباعیاتِ ساجد

اللہ سے کچھ چیز نہیں ہے پنہاں

ہیں سارے امور اُس پہ حقیقت افشاں

گُزرے ہوئے ادوار ہیں اُس پر روشن

آئندہ کے ہیں لیل و نہار اُس پہ عیاں