رباعیاتِ ساجد

تجھ کو ہے حقیقت کی تلاش پیہم

کر ہوش و بصیرت سے تفکّر ہر دم

جو اسم کہ اعظم ہے تمام اسما کے

مظہر ہے اُسی اسم کا رُوح اعظم