← شوقِ فراواں
سلطان ہیں کہڑے یہاں حضرتؐ کے سامنے
پھیلائے ہاتھ بھرِ ہر محبتِ کے سامنے
باندھے ہوئے ادب سے کھڑے مرسلین ہیں
محبوبِ حق امامِ رسالت کے سامنے
اندھے سے تھے نہ یولہب⚠️ کی طرح انہیں طرح انہیں
حق کے نبیؐ جمالِ حقیقت کے سامنے
ہوتا مبادلہ کہاں اسقف میں تاب تھی
اُن پیکرانِ فضل و شرافت کے سامنے
عاجز تھا نامراد ریسِ المنافقین
سلطانِ⚠️ راضی⚠️ و صداقت کے سامنے
اعلان در گزر کا ہوا فتحِ مکّہ پر
ششدر تھے لوگ اُن کی عنایت کے سامنے
ساجدؔ نہیں پسند مجھے قرب تاجور
حضرتِؐ شہِ جہاں کی عقیقت کے سامنے