← شوقِ فراواں
ہر کوئی آپؐ سے ہی جام کرم لیتا ہے
کُل جہاں سیّدِ عالم کے قدم لیتا ہے
راہرو آپؐ کا ثنگ⚠️ تک جائے یہ ممکن ہی نہیں
راہرو آپؐ کا کب راہ میں دم لیتا ہے
اُن کے پیکر کی بدولت یہ زمیں پاک ہوئی
روشنی اُن سے عرب اور عجم لیتا ہے
اُن کی درویش کی ہے مجلسِ عالم پہ نظر
دل کے ہوتے وہ کہاں ساغر جم لیتا ہے
کوئی قیسر ہے کہ خاقان انہیؐ کا ہے گدا
تخت و تاج آپؐ سے ہی حق کی قسم لیتا ہے
بحرِ ادراک میں جب جب غوطے لگائے غواص
تب کہیں ہاتھ میں وہ گوہرِ یم لیتا ہے
فکرِ ساجدؔ پہ برستا ہے عطا کا بادل
ہاتھ میں جب وہ پے نعتِ قلم لیتا ہے